Pakistan Tehreek-e-Insaf

Pakistan Tehreek-e-Insaf
News Update :
Hot News »
Bagikan kepada teman!

کعبہ معظمہ کون اور کب گرائے گا؟ معاذاللہ

Penulis : Mhr Sahar on Monday, 30 November 2015 | 21:50

Monday, 30 November 2015

کعبہ معظمہ کون اور کب گرائے گا؟ معاذاللہ
آپ میں سے اکثر دوستوں نے سنا ہوگاکہ قرب قیامت کعبہ معظمہ کو گرائے جانے کا دلخراش واقعہ رونما ہوگا۔ (العیاذ بااللہ 
کعبۃُاللہِ المُشَرَّفَہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں میں سے ایک عظیمُ الشَّان نشانی ہے۔جب تک یہ قائم ہے دنیا باقی ہے جب اس کو گرادیاجائے گاتودنیاتباہ وبربادہوجائے گی اورقیامت بَرپاہوجائے گی۔قربِ قیامت میں ایک بدبخت حبشی خانۂ کعبہ کوگرادے گاجس کے فورًابعدقیامت قائم ہوجائے گی۔
بدبخت حبشی
حبیب پَروَردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خبردیتے ہوئے ارشادفرمایا:’’چھوٹی پنڈلیوں والاایک حبشی خانہ کعبہ کوگرادے گا۔‘‘ جبکہ بخاری شریف میں یہ بھی زائد ہے ’’گویا میں اسے دیکھ رہاہوں کہ وہ کالااورچَوڑی ٹانگوں والاہے،کعبہ کے پتھراُکھاڑاُکھاڑکرپھینک رہاہے ۔‘‘ (بخاری، کتاب الحج، باب ہد م ا لکعبۃ،۱/۵۳۷، حدیث:۱۵۹۵۔۱۵۹۶)
عمدَۃُ ا لقاَرِی شرح بخاری میں ہے :’’ آخری زمانے میں حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وصال کے بعد جب سِینوں سے قرآن پاک اُٹھا لیا جائے گا تو اس کے بعد وہ بدبخت حبشی خانۂ کعبہ کو گرائے گا۔‘‘ (عمدۃ ا لقا ری شرح بخا ری، کتاب الحج، باب قولہ تعالٰی جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام، ۷/ ۱۵۶، تحت الحدیث:۱۵۹۱)
مسند امام احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے۔ حضرت ابن عمر و ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ حبشہ کا دو چھوٹی پنڈلیوں والا کعبہ معظمہ کو ویران کرے گا اور اس کے زیورات قبضہ میں لے لے گا اور اسے غلاموں سے خالی کردے گا۔ اور میں دیکھ رہا ہوں وہ حبشی گنجہ اور چھوٹی ناک والا کعبہ پر ہتھوڑے برسا رہا ہے۔
اللہ تعالی نے نگاہِ نبوت کو کس قدر قوی بنایا ہے کہ اگلے پچھلے واقعات کوملاحظہ فرمالیتی ہے۔ بے شک ان پر یہ اللہ کی خاص رحمت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بے شمار علوم عطاء کئے ہیں۔ جن کا ادراک ہمارا چھوٹا سا ذہن کبھی نہیں کر سکتا۔ جو زبانِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ادا ہوگیا وہ ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے۔ "اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے۔ وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے (سورہ النجم 3-4)
میں نے بعض علماء سے سنا ہے کہ اللہ تعالی کے علم کے سمندر کے مقابلہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا علم ایک قطرہ ہے۔ مگر یہ قطرہ تمام مخلوق کے لئے ایک سمندر ہے۔ یقینا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے تو سوچیئے اس خالقِ کائنات کے علم کی وسعتوں کو کیا جان سکیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں پچھلی امتوں کے بیانات کے ساتھ ساتھ آئندہ پیش آنے والے واقعات کا بھی کثرت سے بتایا ہے۔
اگر کوئی دوست قیامت کی نشانیوں کے بارے میں تفصیل سے پڑھنا چاہے تو اس کے لئے ایک عربی کتاب "الاشاعۃ لِاشراطِ الساعۃ" کا اردو ترجمہ "قیامت کی نشانیاں" موجود ہے۔ اس کتاب میں قیامت کے بارے میں پانچ سو سے زائد احادیث و آثار کے ساتھ تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔
اللہ تعالی ہمیں اسلام پر زندہ اور ایمان کی موت نصیب فرمائے۔ آمین



comments | | Read More...

کعبہ معظمہ کی تعمیری ِ تاریخ

Penulis : Mhr Sahar on Friday, 27 November 2015 | 11:36

Friday, 27 November 2015


کعبہ معظمہ کی تعمیری ِ تاریخ


حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے"تاریخ مکہ" میں تحریر فرمایا ہے کہ"خانہ کعبہ" دس مرتبہ تعمیر کیا گیا:

(۱)سب سے پہلے فرشتوں نے ٹھیک “بیت المعمور” کے سامنے زمین پر خانہ کعبہ کو بنایا۔ بیت المعمور جو کہ فرشتوں کا کعبہ ہے ۔ جس کا طواف فرشتے کرتے ہیں۔

(۲) پھر حضرت آدم علیہ السلام نے اس کی تعمیر فرمائی۔

(۳) اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کے فرزند حضرت شیث علیہ السلام نے اس عمارت کو تعمیر کیا۔ اس کے بعدطوفان نوح علیہ السلام میں یہ عمارت غائب ہوگئی۔ جو کہ کئی سوسال تک دوبارہ تعمیر نہ کی جاسکی ۔

(۴) اس کے بعد حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور ان کے فرزند ارجمند حضرت اسمٰعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام نے اس مقدس گھر کو تعمیر کیا۔ جس کا تذکرہ قرآن مجید میں ہے۔ 
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم الٰہی ہوا کہ مکہ کی طرف جاؤ تو آپ حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور حضرت اسماعیلؑ علیہ السلام کو لے کر روانہ ہوگئے اور اس مقام پر پہنچے جہاں اب مکہ واقع ہے۔ یہاں نہ کوئی عمارت تھی اور نہ پانی تھا اور نہ یہاں کوئی رہتا تھا۔ درختوں کے نام پر صرف ببول وغیرہ کی جھاڑیاں تھیں۔ حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام نے بیوی بچے دونوں کو یہاں بٹھا دیا۔ ایک مشکیزہ پانی کا اور کھجوریں پاس رکھ دیں اور پھر آپؑ شام کی طرف چلے گئے۔ حضرت ابراہیمؑ دوسری بار مکہ آئے تو قیام نہ کیا لیکن جب تیسری بار تشریف لائے تو حضرت اسماعیلؑ علیہ السلامسے فرمایا کہ ’’بیٹا! اﷲ تعالیٰ نے مجھے ایک حکم دیا ہے‘‘۔ حضرت اسماعیلؑ علیہ السلام نے کہا: ’’تو اطاعت کیجیے‘‘۔ پوچھا: ’’کیا تُو میری مدد کرے گا؟‘‘ کہا: ’’کیوں نہیں‘‘۔ حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام نے کہا: ’’اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ یہاں ایک گھر بناؤں‘‘۔
گھر کی تعمیر شروع ہوئی، حضرت اسماعیلؑ علیہ السلام پتھر لاتے جاتے اور حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام بناتے جاتے تھے۔ جب تعمیر ذرا بلند ہوگئی تو حضرت اسماعیلؑ ایک پتھر اٹھاکر لائے تاکہ حضرت ابراہیمؑ اس پر کھڑے ہوکر تعمیر کریں۔ (یہی مقام ابراہیمؑ ہے) دونوں باپ بیٹے دیوار اٹھاتے جاتے تھے اور دعا کرتے جاتے تھے۔
’’اے پروردگار! ہم سے قبول فرما، تُو سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘
کہتے ہیں اس وقت حضرت اسماعیلؑ کی عمر بیس سال تھی، حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام نے بیت اﷲ کے پہلو میں حجر کو حضرت اسماعیلؑ علیہ السلام کی بکریوں کا باڑہ بنایا تھا اور اس پر پیلو کی چھت ڈالی تھی۔ پہلے بیت اﷲ کی جگہ ایک سرخ ٹیلہ تھا۔ اکثر سیلاب ادھر ادھر سے اسے کاٹتا رہتا تھا۔ جب حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام تعمیر کعبہ سے فارغ ہوگئے تو حضرت اسماعیلؑ علیہ السلام سے ایک ایسا پتھر لانے کو کہا جو آغاز طواف کے لیے نشانی کے طور پر استعمال ہوسکے۔ یہ پتھر حضرت جبرئیل علیہ السلام ابوقبیس کی پہاڑی سے لائے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اسے اس مقام پر رکھ دیا جہاں وہ اب قائم ہے۔ 

(۵) قوم عمالقہ کی عمارت کی تعمیر میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔

(۶) اس کے بعد قبیلہ جرہم نے اس کی عمارت بنائی۔ 

(۷) قریش کے مورث اعلیٰ “قصی بن کلاب” کی تعمیر۔ 

(۸) قریش کی تعمیر جس میں خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی شرکت فرمائی اور قریش کے ساتھ خود بھی اپنے دوش مبارک پر پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے رہے۔ 

قریش کی جانب سے تعمیر نو رسول اﷲ ؐ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوئی تھی۔ قریش نے تعمیر کے لیے جو حلال مال جمع کیا تھا وہ کافی نہیں تھا اس لیے حجر کی طرف چھ ہاتھ ایک بالشت جگہ کم کردی گئی تھی۔ حجر کے پیچھے ایک چھوٹی سی گول دیوار بنادی تھی تاکہ لوگ اس کے باہر طواف کریں، کعبہ کے اندر انھوں نے دو صفوں میں چھ ستون رکھے تھے جس پر چھت تھی۔ اس سے پہلے کعبہ پر چھت نہیں تھی۔ دروازہ ایک رکھا تھا، چھت کی بلندی اٹھارہ ہاتھ تھی۔

(۹) حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تجویز کردہ نقشہ کے مطابق تعمیر کیا۔ یعنی حطیم کی زمین کو کعبہ میں داخل کر دیا۔ اور دروازہ سطح زمین کے برابر نیچا رکھا اور ایک دروازہ مشرق کی جانب اور ایک دروازہ مغرب کی سمت بنا دیا۔ 

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ رضی اللہ عنہ کی تعمیر بیت اﷲ کے بارے میں روایت ہے کہ ’’انھوں نے تین دن تک استخارہ کرنے کے بعد کعبہ کو بالکل زمین کے برابر کردیا اور حضرت ابراہیمؑ کی بنیاد کو بھی کھدوایا تو دیکھا کہ وہ چھ ہاتھ اور ایک بالشت حجر اسماعیل میں داخل ہے لہٰذا آپ نے انھی بنیادوں پر تعمیر کی۔ ایسا انھوں نے حضرت عائشہؓ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث کی بنا پر کیا۔
حضرت زبیرؓ رضی اللہ عنہ نے کعبہ کی بلندی ستائیس ہاتھ رکھی تاکہ عرض کے مناسب ہوجائے۔ ایک دروازہ داخلے کے لیے اور ایک باہر جانے کے لیے بنایا۔ دونوں دروازے سطح زمین کے برابر تھے، ہر دروازے کی لمبائی گیارہ ہاتھ تھی اور دو پٹ تھے۔ آپ نے کعبہ کے چار ستون بنائے۔آپ کے زمانے میں یہ چاروں ستون چومے جاتے تھے۔ اپ نے رکن شامی کی جانب ایک زینہ اوپر جانے کے لیے بنایا تھا اور اسے سونے سے مزین کیا تھا۔ چھت پر پرنالہ رکھا تھا جو حجر میں گرتا تھا۔
جس دن کعبہ شریف کی تعمیر مکمل ہوئی وہ دن عجیب تھا۔ اس دن بہت سے غلام آزاد کیے گئے اور بہت سی بکریاں ذبح کی گئیں۔ حضرت زبیرؓ رضی اللہ عنہ ننگے پاؤں نکلے۔ آپ کے ساتھ بہت سے قریش بھی برہنہ پا تھے حتیٰ کہ قنعم کے مقام پر مسجد عائشہ پہنچے اور عمرہ کا احرام باندھا کہ اﷲ نے انھیں ابراہیمی تعمیر پر تعمیر کعبہ کی توفیق عطا کی۔
ابن زبیر کی تعمیر کی وجہ یہ تھی کہ ایک شخص نے محاصرے کے زمانے میں مسجد حرام کے کسی خیمے میں آگ جلائی۔ خیمے میں آگ لگ گئی جو بڑھتے بڑھتے کعبہ تک پہنچ گئی اور اس نے غلاف کعبہ اور رکن یمانی جلا ڈالا۔ یہ واقعہ 64 ہجری کا ہے۔ دس سال بعد 74 ہجری میں حجاج نے اس بنا پر کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کعبہ میں اضافہ کیا تھا اور ایک دروازہ مزید بنادیا تھا، اسے گرا کر قریش کی تعمیر کے مطابق کردیا۔
تاریخ مکہ میں ہے کہ خانہ کعبہ کی ہر ایک چیز عبداﷲ بن زبیرؓ رضی اللہ عنہ کی بنائی ہوئی ہے۔ سوائے اس دیوار کے جو حجر میں ہے۔ وہ حجاج کی بنائی ہوئی ہے۔ اسی طرح مشرقی دروازے کی چوکھٹ اور وہ اندرونی سیڑھی جو کعبہ کی چھت تک جاتی ہے۔

(۱۰) عبدالملک بن مروان اموی کے ظالم گورنر حجاج بن یوسف ثقفی نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا۔ اور ان کے بنائے ہوئے کعبہ کوحطیم کی جانب سے ڈھا دیا ۔اور پھر زمانۂ جاہلیت کے نقشہ کے مطابق کعبہ بنا دیا۔ جو آج تک موجود ہے۔

اس کے بعدکی بھی تعمیر کاتذکرہ تاریخ میں ملتا ہے
عثمانی سلطان مراد رابع کے زمانے میں 19 شعبان 1039 ہجری کو صبح 8 بجے مکہ اور اس کے اطراف میں شدید بارش ہوئی۔ بارش سے سیلاب حرم شریف میں داخل ہوگیا اور کعبہ شریف کے دروازے کی چوکھٹ سے بھی بلند ہوگیا۔ دوسرے دن جمعرات کو عصر کے وقت کعبہ کی شامی دیوار دونوں طرف سے گر گئی اور اس کے ساتھ مشرقی دیوار کا کچھ حصہ بھی۔ مغربی دیوار بھی دونوں طرف سے چھٹے حصے کے بقدر گرگئی، چھت کا کچھ حصہ بھی گر گیا، چنانچہ سلطان مراد نے دوبارہ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا۔ ایک سال میں یہ تعمیر مکمل ہوئی، اس طرح جس طرح حجاج نے بنوائی تھی۔ سلطان مراد کی تعمیر ہمارے اس دور تک باقی ہے۔

حضرت علامہ حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی سیرت میں لکھا ہے کہ نئے سرے سے کعبہ کی تعمیر جدید صرف تین ہی مرتبہ ہوئی ہے:

(۱)حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی تعمیر

(۲) زمانۂ جاہلیت میں قریش کی عمارت اور ان دونوں تعمیروں میں دو ہزار سات سو پینتیس (۲۷۳۵) برس کا فاصلہ ہے 

(۳) حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعمیر جو قریش کی تعمیر کے بیاسی سال بعد ہوئی۔

حضرات ملائکہ اور حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے فرزندوں کی تعمیرات کے بارے میں علامہ حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ یہ صحیح روایتوں سے ثابت ہی نہیں ہے۔ باقی تعمیروں کے بارے میں انہوں نے لکھا کہ یہ عمارت میں  
معمولی ترمیم یا ٹوٹ پھوٹ کی مرمت تھی۔ تعمیر جدید نہیں تھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔


comments | | Read More...

قصیدہ بردہ شریف کی حقیقت

Penulis : Mhr Sahar on Monday, 31 August 2015 | 14:56

Monday, 31 August 2015


قصیدہ بردہ شریف کی حقیقت
heart emoticon
امام بوصيري رحم? اللہ عليہ (1211ء-1294ء) پورا نام ابو عبد اللہ محمد ابن سعد البوصيري ايک مصري شاعر تھے جوکہ مصر ميں ہي رہے، جہاں اُنہوں نے ابنِ حناء کي سرپرستي ميں شاعرانہ کلام لکھے۔ اُن کي تمام تر شاعري کا مرکز و محور مذہب اور تصوف رہا۔

اُن کا سب سے مشہور شاعرانہ کلام قصيدہ بردہ شريف ہے جوکہ حضور پاک صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي نعت، مدحت و ثناء خواني پر مبني ہے اور اسلامي دنيا ميں نہايت مشہور و مقبولِ عام ہے۔

امام البوصیری مصر میں امراء کے قصائد کہا کرتے تھے اور آخری ایام میں کوڑھ کے مرض کی وجہ سے بہت پریشان رہے اور آپ نے حضرت محمد ﷺ کی شان میں قصیدہ بردہ شریف لکھا جس کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا اور ایک رات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت با سعادت ہوئی اور آپ نے خوش ہوکر ان کے جسم پہ ہاتھہ پھیرا اور لال رومال نشانی کے طور پر چھوڑ کر روانہ ہوگئے۔ صبح البوصیری رو بصحت ہوگئے اور جب آپ نے لال رومال دیکھا تو فرط محبت رسول سے سرشار ہوکر رب ذوالجلال کا شکر بجا لائے اور اس کےبعد سے ان کی زندگی تبدیل ہوگئی۔۔

تصوف اور وليوں کے ماننے والے مسلمانوں نے شروع ہي سے اس کلام کو بے حد عزت و توقير دي۔ اس کلام کو حفظ کيا جاتا ہے اور مذہبي مجالس و محافل ميں پڑھا جاتا ہے اور اس کے اشعار عوامي شہرت کي حامل عمارتوں ميں مسجدوں ميں خوبصورت خطاطي ميں لکھے جاتے ہيں۔

کچھ مسلمانوں کا يہ بھي ماننا ہے کہ اگر قصيدہ بردہ شريف سچي محبت اور عقيدت کے ساتھ پڑھا جائے تو يہ بيماريوں سے بچاتا ہے اور دلوں کو پاک کرتا ہے? اب تک اس کلام کي نوے (90) سے زائد تشريحات تحرير کي جا چکي ہيں اور اس کے تراجم فارسي، اردو، ترکي، بربر، پنجابي، انگريزي، فرينچ، جرمني، سندھي و ديگر بہت سے زبانوں ميں کئے جا چکے ہيں۔

مولاي صلــــي وسلــــم دائمـــاً أبــــدا

علـــى حبيبــــك خيــر الخلق كلهـم

أمن تذكــــــر جيــــــرانٍ بذى ســــــلم

مزجت دمعا جَرَى من مقل بـــــدم

َمْ هبَّــــت الريـــــحُ مِنْ تلقاءِ كاظمــةٍ

وأَومض البرق في الظَّلْماءِ من ضم

فما لعينيك إن قلت اكْفُفاهمتـــــــــــــــا

وما لقلبك إن قلت استفق يـــــــــم

أيحسب الصب أن الحب منكتـــــــــــم

ما بين منسجم منه ومضطــــــــرم

لولا الهوى لم ترق دمعاً على طـــــللٍ

ولا أرقت لذكر البانِ والعلــــــــــمِ

فكيف تنكر حباً بعد ما شـــــــــــــدت

به عليك عدول الدمع والســـــــــقمِ

وأثبت الوجد خطَّيْ عبرةٍ وضــــــــنى

مثل البهار على خديك والعنــــــــم

نعم سرى طيف من أهوى فأرقنـــــــي

والحب يعترض اللذات بالألــــــــمِ

يا لائمي في الهوى العذري معـــــذرة

مني إليك ولو أنصفت لم تلــــــــــمِ

عدتك حالي لا سري بمســــــــــــــتتر

عن الوشاة ولا دائي بمنحســـــــــم

محضتني النصح لكن لست أســـــمعهُ

إن المحب عن العذال في صــــــممِ

إنى اتهمت نصيح الشيب في عـــــذلي

والشيب أبعد في نصح عن التهـــتـمِ

امام بوصیری نے اس قصیدے کو نام بھی کمال کا دیا ہے کہ حضور نے کملی دی ہے تو نام چادر والا قصیدہ رکھ دیا.بردہ عربی میں چادر کو کہتے ہیں.

یا نبی سلام علیکَ

comments | | Read More...

انٹروپی-Entropy٭٭٭ (ایک استفسار کے جواب میں)

انٹروپی-Entropy٭٭٭ (ایک استفسار کے جواب میں)

میرے خیال میں انٹروپی کے حوالے سے انٹرنیٹ پر جو بھی مواد ہے اس کے لیے طبیعیات کے بنیادی فلسفے سے آگہی ضروری ہے۔ بہرحال میں کوشش کرتا ہوں کہ آسان ترین الفاظ میں اسے سمجھانے کی کوشش کروں۔ لیکن جتنا بھی آسان کرکے اسے پیش کیا جائے، کہیں نہ کہیں الجھن تو رہے گی ہی سو اس کے لیے پیشگی معافی کی درخواست ہے۔
انٹروپی در اصل ایک پیمانہ ہے بے ترتیبی, ناکارگی یا انتشار (Disorder) کو ماپنے کا۔ اور اس قانون کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کائنات کے اندر بے ترتیبی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ بلکہ اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔ میں اس کو آسان لفظوں میں کہتا ہوں کہ "قابلِ استعمال توانائی (Energy)، ناقابلِ استعمال توانائی میں بدلتی جارہی ہے۔"
مزید آسان الفاظ میں یہ کہوں کہ انٹروپی مظاہر کے رونما ہوتے رہنے کا نام ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ اور پھر جب مظاہر رو نماہوتے ہیں تو ان میں آرڈر سے ڈس آرڈر کی جانب سفر ہوتا ہے۔ یعنی جتنی انٹروپی بڑھتی جائے گی، کائنات میں ڈس آرڈر بڑھتا چلا جائے گا۔
اب سائنس کے لحاظ سے انٹروپی کو ٹائم کی نسبت سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ اور اس میں دو مختلف آراء ہیں کہ آیا انٹروپی (یعنی مظاہر کے رونما ہونے) کا نام "زمانہ" ہے، یا زمانہ الگ سے کوئی چیز ہے اور انٹروپی اسی زمانے کے تحت بڑھ رہی ہے۔ عام رائے یہی ہے کہ انٹروپی وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ البتہ میری رائے میں خود مظاہر کا رونما ہونا ہی وقت کا تصور ہے جو کہ ایک اضافی چیز ہے۔ بہر حال یہ بحث یہاں غیر متعلق ہے۔
سائنس دان اور مختلف فلاسفہ انٹروپی کے ریورس ہونے کے امکان پر بات کرتے پائے جاتے ہیں۔ یعنی ایسے سوالات پر بات ہوتی ہے کہ کیا یہ ڈس آرڈر دوبارہ آرڈر میں آسکتا ہے؟ کیا یہ بے ترتیبی دوبارہ ترتیب میں آسکتی ہے؟ کیا ایک کانچ کی بوتل ٹوٹنے کے بعد دوبارہ اسی طرح واپس جڑ سکتی ہے؟ اور سب سے بنیادی بات۔۔۔ کائنات جو کہ پھیل رہی ہے کیا وہ کسی وقت اپنی اسی ترتیبِ آغاز پر پہنچ سکتی ہے؟ اس مرحلے کو بگ کرنچ (Big Crunch) کہا جاتا ہے جو کہ بگ بینگ کا الٹ ہے۔ (تاہم اس میں تھرموڈائنیمکس کا دوسرا قانون ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے جس کی بحث یہاں محلِ نظر ہے)۔
ایک اور مثال سمجھیے۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین پر جاندار اور ان جانداروں کی نقل و حرکت میں ٹیمپریچر کی مختلف حالات (Variation) کا بنیادی کردار ہے۔ یعنی زمین کے ہر ہر حصے پر مختلف ٹیمپریچر پایا جارہا ہے جس کی وجہ سے یہ سارا نظام چل رہا ہے۔ ایک ہیٹ انجن تب کام کرتا ہے جب اس کے ارد گرد کا ماحول اتنا ٹھنڈا ہو کہ اس سے نکلنے والی توانائی کو جذب کر سکے۔
اسی طرح تمام حرکات یہاں تک کہ ہمارا چلنا پھرنا بھی اسی ٹیمپریچر کے متغیر اور مختلف ہونے کی وجہ سے ممکن ہو پارہا ہے۔ یہ ویرئیشن جتنی زیادہ ہے اتنا زیادہ آرڈر ہے۔ اور جتنی یہ ویرئیشن کم ہوتی جائے گی اتنا ہی ڈس آرڈر بڑھتا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب پانی ایک خاص ٹیمپریچر پر پہنچ کر ابلنے لگتا ہے لگتا ہے تو اس کی ناکارگی میں بھی ساتھ ہی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد جب پانی نارمل حالت میں آئے گا تو ارد گرد کے ماحول کو وہ ایسی توانائی دے گا جو اب بڑی حد تک ناقابلِ استعمال بن چکی ہوگی۔ یہاں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پانی کی انٹروپی بڑھنے یا گھٹنے کا مقصد یہ نہیں کہ انٹروپی بحیثیت مجموعی بڑھ اور گھٹ سکتی ہے۔ بلکہ اس کا معاملہ یہ ہے کہ ایک مخصوص سسٹم میں اگر ایک چیز کی انٹروپی میں کمی واقع ہوئی ہے تو کم از کم اسی مقدار میں یا اس سے زیادہ ارد گرد کی اشیاء میں انٹروپی میں اضافہ بھی ہو جائے گا۔ یوں اوسط انٹروپی یا تو بڑھتی جائے گی یا اپنی موجودہ حالت میں برقرار رہے گی۔ یعنی کہ مکمل کائنات کی اوسط انٹروپی ( ڈس آرڈر) میں یا تو اضافہ ہوگا یا پھر ایک ٹھہراؤ ہوگا۔ کمی نہیں آسکے گی۔
اب اس بات کو سمجھ لینے کے بعد مرحلہ آتا ہے کہ یہ سب کچھ اگر یونہی چلتا رہے گا تو عقلی لحاظ سے ایک وقت ایسا آئے گا کہ تمام کی تمام کائنات ایک ایقویلیبریم (Equilibrium) پر پہنچ کر ساکت ہوجائے گی۔ اس وقت پوری کائنات کا ٹیمپریچر ایک ہی جیسا ہوجائے گا۔ کوئی "حرکیاتی تبدیلی" باقی نہیں رہے گی۔ توانائی کی کوئی شکل اس وقت قابل استعمال نہیں رہے گی۔ ایٹم میں گھومتے الیکٹرانز بھی شاید نیوکلیس کے اندر ہی گر جائیں گے۔ وقت ہمیشہ کے لیے رک چکا ہوگا۔ اور یہ وہ مرحلہ ہے جسے بگ فریز (Big freeze) کہا جاسکتا ہے۔
گویا انٹروپی ہی اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ کائنات کی عمر لامحدود نہیں۔ ورنہ جو ہمیں جاندار، پیڑ پودے نظر آتے ہیں یہ آرڈر کی اعلی شکل میں ہیں۔ یعنی جاندار زندہ ہی اس لیے ہیں کہ ان کے اندر انٹروپی کا لیول بہت کم ہے۔ اگر یہ کائنات اپنی عمر میں لامحدود ہوتی تو ہم اسے دیکھنے کے لیے موجود نہ ہوتے۔


comments | | Read More...

کیا کائنات ہمیشہ سے موجود رہی ہے؟

کیا کائنات ہمیشہ سے موجود رہی ہے؟
(ایک مشہور خیال کا رد)
آپ سب نے یقیناً کئ بار چائے پی ہو گی۔ اور یہ بھی دیکھا ہو گا کہ چائے جب پکائ جاتی ہے تو سخت گرم ہوتی ہے اور جب اسے کچھ دیر کپ میں ڈال کر رکھا جاتا ہے تو وہ ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ دراصل یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ چائے کی گرمائیش اس کے ارد گرد موجود ہوا میں چلی جاتی ہے جس کے نتیجے میں ہوا گرم اور چائے ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ ہوا چونکہ بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیئے اس کا گرم ہونا ہم محسوس نہیں کر پاتے۔ لیکن آپ نے کبھی سوچا کہ اگر چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے تو یہ ٹھنڈا ہونے کا عمل رک کیوں جاتا ہے؟ چائے ٹھنڈی ہوتے ہوتے جم کر برف کیوں نہیں بن جاتی؟
اس کا جواب تھرمو ڈائینیمکس کا قانون ہے کہ، "گرمائیش ہمیشہ ایک گرم جسم سے ٹھنڈے جسم کی طرف سفر کرتی ہے اور اس وقت تک سفر کرتی رہتی ہے جب تک دونوں جسموں کی حرارت برابر نہیں ہو جاتی۔"
اور یہی ٹھنڈے ہونے کے عمل کے رکنے کی وجہ ہے۔ جب چائے کا درجہِ حرارت اپنے ارد گرد موجود ہوا کے درجہِ حرارت کے برابر ہو جاتا ہے تو اس میں سے مزید گرمائیش ہوا میں منتقل ہونا بندہو جاتی ہے۔
یہ سائینسی قانون ہر جگہ لاگو ہوتا ہے۔ چاہے وہ چائے کا ایک کپ ہو یا پھر کائنات میں موجود ستارے۔ جی ہاں۔ ہمارا سورج بھی اس کہکشاں میں ویسے ہی پڑا ہوا ہے جیسے ایک ٹیبل پر چائے کا کپ۔ کیونکہ چائے کے کپ کی طرح سورج بھی اپنی گرمائیش ماحول میں منتقل کر رہا ہے جسے ہم زمین پر موصول کرتے ہیں کیونکہ ہم سورج کے اردگرد کے ماحول کا ایک حصہ ہیں۔ اِس وقت سورج شدید گرم ہے اور ارد گرد موجود سیارے انتہائ سرد ہیں۔ لیکن ایک وقت آئے گا جب چائے کے کپ کی طرح سورج کا ٹھنڈا ہونے کا عمل بھی رک جائے گا۔یہ وہ وقت ہو گا جب ہماری زمین اور دیگر سیاروں کا درجہِ حرارت اتنا بڑھ جائے گا اور سورج کا درجہِ حرارت اتنا کم ہو جائے گا کہ دونوں کے درجہِ حرارت ایک برابر مقدار پر آ جائیں گے۔ اِس وقت کو "ہیٹ ڈیتھ" یعنی "زمین کی حرارت سے موت" کہا جاتا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے اگر آپ ٹھنڈے پانی میں اپنا ہاتھ ڈال دیں تو کچھ دیر میں وہ ٹھنڈا پانی گرم ہو جاتا ہے اور آپ کا گرم ہاتھ ٹھنڈا ہو جاتا ہے یعنی دونوں کا درجہِ حرارت برابر ہو جاتا ہے۔
البتہ آپ لوگ ٹینشن نہ لیں ۔ہماری زمین کے ساتھ ایسا ہونے میں ہزاروں سال لگیں گے اور پوری کائنات کے ساتھ ایسا ہونے میں کتنا وقت لگے گا وہ بتانا شائد کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے ۔ ویسے بھی تب تک ہم لوگ شائدایک دوسرے کو قتل کر کے ختم ہو چکے ہوں ۔ اور آج کل قیامت کی نشانیاں بھی بہت نظر آ رہی ہیں۔ ہیٹ ڈیتھ سے پہلے پہلے شائد قیامت آ جائے۔
اب آتے ہیں تخلیقِ کائنات کی طرف۔ فرض کریں کہ آپ کو کوئ کہے کہ میں نے دو دن پہلے چائے بنائ تھی اور وہ ابھی تک گرم ہے۔ تو کیا آپ اس بات پر یقین کریں گے؟ نہیں نا۔ کیونکہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ چائے کا کپ دو دن گزرنے کے بعد بھی اپنی گرمائیش نکالتا رہے۔ چائے کی ٹھنڈک کا عمل رکنے میں زیادہ سے زیادہ اور گرم سے گرم جگہ پر ایک گھنٹہ لگ سکتا ہے۔ اس سے زیادہ نہیں۔
اگر آپ دو دن تک چائے کے گرم رہنے کو تسلیم نہیں کر سکتے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود ہو اور ابھی تک ستارے گرم ہوں اور ان کے ٹھنڈے ہونے کا عمل رکا نہ ہو۔ ایسا بالکل ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اگر کائنات ہمیشہ سے موجود ہوتی تو اس وقت ساری کائنات 'ہیٹ ڈیتھ' کی حالت میں ہوتی۔ تمام کا کائنات کا درجہِ حرارت برابر ہوتا۔ مطلب ہمیشہ سے موجود کائنات ہمیشہ سے یکساں درجہ حرارت رکھتی ۔ چائے کے کپ کی طرح تمام ستارے ٹھنڈے ہو چکے ہوتے۔ لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ اس وقت کائنات میں ان گنت ستارے موجود ہیں اور سب کے سب دہک رہے ہیں اور دور دور تک اپنی حرارت پہنچا رہے ہیں۔ اور دوسری طرف ان ستاروں سے دور دور پتھروں کے ٹکڑے ہیں جہاں بے پناہ ٹھنڈک کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کائنات میں مختلف جگہوں پر مختلف درجہ حرارت ہے۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں تھی بلکہ ایک خاص وقت پر وجود میں آئ تھی۔
کارل سیگان، برٹرنڈ رسل اور ڈینئیل ڈینیٹ جیسے کئ لوگ گزرے ہیں جو خدا کے وجود سے منہ چھپانے کے لیئے اس حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش کرتے رہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہے، بلکہ پیدا کی گئ ہے۔ کئ لوگ آج بھی کائنات کو ایک خالق کی تخلیق ماننے سے بھاگنے کے لیئے کہتے ہیں کہ کائنات ہمیشہ سے موجود ہے اور کبھی تخلیق نہیں کی گئ۔ لیکن آج سائینس مانتی ہے کہ کائنات بھی ایک وقت پر پیدا ہوئ اور اپنی مدت پوری کرنے کے بعد اس کی موت بھی واقع ہوگی۔
کائنات کسی خالق کی تخلیق ہے، بذاتِ خود خالق نہیں ہے۔
بہرحال، میرا چائے کا کپ یہ تحریر لکھتے ہوئے تقریباً ٹھنڈا ہو چکا ہے۔ دیکھیں کیا کیا کرنا پڑتا ہے آپ لوگوں کے لیئے اپنی چائے بے کار کر دی۔ اب میرا اتنا حق تو بنتا ہے کہ آپ سے اس مضمون پر اظہارِ رائے کی توقع رکھ سکوں!!!

comments | | Read More...

بابابلھے شاہؒ

Penulis : Mhr Sahar on Saturday, 29 August 2015 | 08:10

Saturday, 29 August 2015

بابابلھے شاہؒ کا نام برصغیر میں بسنے والوں کے لیے کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔۔بلھے شاہؒ کے نام سے جانے والے عظیم پنجابی صوفی شاعر کا اصل نام سیدعبداللہ شاہؒ ہے۔ 1680ء میں اُچ گیلانیاں (بہاولپور) سخی شاہ محمد درویش کے گھرپیدا ہو نے والے بابا بلھے شاہؒ جب چھ سال کے ہوئے ،تو والدین کے ہمراہ ملکوال چلے گئے۔ آپ ؒکے والد متقی اور پرہیز گار ہونے کیساتھ ساتھ مقامی مسجد میں پیش امام اور استاد بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ موضع پانڈو کی کا ایک بڑا زمیندار پانڈو خان جس کی بیٹی کی شادی ملکوال میں ہوئی تھی، وہ بلھے شاہؒ کے والد سے ملا۔ ان کی اچھی شہرت سے متاثر ہوکر اصرار کیا کہ وہ موضع پانڈو کی (قصور)مسجد کے امام بن جائیں ۔ پانڈو خاں کے بے حد اصرار پر حضرت بلھے شاہؒ کے والد نے پانڈو کی میں مستقل سکونت اختیار کر لی اورپیش امام کے ساتھ بچوں کو دینی تعلیم بھی دینے لگے۔ حضرت بابا بلھے شاہؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی،جس کے بعد انہیں مزید تعلیم کیلئے قصور بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے حافظ غلام مرتضیٰ کی شاگردگی اختیار کی اور اپنے استادسے عربی فارسی اور تصوف کی تعلیم بھی حاصل کی۔ حافظ غلام مرتضیٰ ،بابا بلھے شاہؒ کے ساتھ ساتھ پیر وارث شاہؒ کے بھی استاد تھے۔ استاد کا ان دونوں شاگردوں کے بارے میں کہنا تھا کہ ’’ مجھے دو شاگرد عجیب ملے ہیں، ایک بلھے شاہ ؒہے، جس نے علم حاصل کرنے کے بعد سارنگی ہاتھ میں پکڑ لی،دوسرا وارث شاہؒ ہے، جو عالم بن کے ہیر رانجھا کے گیت گانے لگا‘‘۔ حقیقت کی تلاش بلھے شاہؒ کو مرشد کامل عنایت شاہ قادریؒ کے در پر لاہور لے گئی۔ مرشدذات کے آرائیں، پیشہ کھیتی باڑی اور باغ بانی تھا۔آپؒ کو اپنے مرشد سے بے پناہ عقیدت و محبت تھی جیسے مولانا رومیؒ کو شمس الدین تبریزؒ اور امیر خسرو کو نظام الدین اولیاءؒ سے تھی۔ایک سیّد کا آرائیں کو اپنا مرشد مان لینے پر بلھے شاہؒ کو اپنی ذات
برادری کی مخالفت اور لوگوں سے طعنے بھی برداشت کرنے پڑے، جس کا جواب انہوں نے کچھ یوںدیا:
؎جیہڑا سانوں سیّد آکھے،
دوزح ملن سزائیاں
جیہڑا سانوں آرائیں آکھے،
بہشتی پینگاں پائیاں
اپنی شاعری میں وہ مذہبی ضابطوں پر ہی تنقید نہیں کرتے بلکہ ترکِ دنیا کی بھی بھر پور انداز میں مذمت کرتے ہیں اور محض علم کے جمع کر نے کو وبالِ جان قرار دیتے ہیں۔ علم کی مخالفت اصل میں’’ علم بغیر عمل‘‘ کی مخالفت ہے:
؎نہ میں مومن وچ مسیتاں
نہ میں وچ کفر دی ریتاں
نہ میں پاکاں وچ پلیتاں
نہ میں موسیٰؑ نہ فرعون
بلھا! کی جاناں میں کون؟
حضرت بابا بلھے شاہؒ1753 ء کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے‘ مزار قصور شہر میں ہے۔ 258عرس آج سے شروع ہےعرس مبارک ہر سال بھادوں(دیسی مہینہ) کی10,9,8تاریخ کو نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے ،جس میں نہ صرف ملک بھر سے بلکہ دوسرے ممالک خصوصاً بھارت سے کثیر تعداد میں عقیدت مند عظیم پنجابی صوفی شاعر کو خراج تحسین پیش کرنے آتے ہیں۔ ٭…٭…٭ -

comments | | Read More...

پاکستانیوں کی کچھ خصوصیات جو پڑھ کر آپ حیران ہو جائیں

Penulis : Mhr Sahar on Thursday, 27 August 2015 | 07:49

Thursday, 27 August 2015

پاکستانیوں کی کچھ خصوصیات جو پڑھ کر آپ حیران ہو جائیں
ہمارے پاکستانیوں میں کچھ عجیب خصوصیات ایسی ہیں جس کی مثال باقی دنیا میں ذرا کم ہی ملتی ہے- ویسے تو پاکستانیوں کی بہت سی خصوصیات ہیں لیکن یہ بہت سے ایسے کام بھی کرتے ہیں جوکہ دنیا بھر میں کم ہی لوگ کرتے ہیں ۔ لیکن ذہن میں رہے ایسا سارے پاکستانی نہیں کرتے ۔ لیکن آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں گے تو آپ کو یہ خصوصیات ضرور نظر آئیں گی۔جو دوسرے ممالک کے لوگوں کے لئے عجیب اور حیران کن ہوسکتی ہیں۔
1۔کچھ دیسی پاکستانیوں کی نشانی ہے کہ وہ جب بھی ریسٹورنٹ جائیں گے وہاں سے واپسی پر کیچپ کے ساشے یا پھر ٹشو پیپر ضرور اپنے ساتھ رکھ کر لائیں گے-
2۔ایک سچا پاکستانی کبھی بھی سیلٹ بیلٹ استعمال نہیں کرے گا-بلکہ اس کو وہ فضول کا کام کہے گا۔
3۔اکثر پاکستانی والدین کی ایک بڑی نشانی کہ وہ ایک دن میں چار سے زائد کپ چائے کے پیتے ہیں-
4۔ایک جملہ جو پاکستانی والدین اپنے بچوں کو کوئی بات سمجھاتے ہوئے ضرور بولتے ہیں کہ “ جب ہم تمہاری عمر کے تھے“-تو ایسے کرتے تھے ویسے کرتے تھے۔
5۔دیسی پاکستانیوں کے فریزر میں رکھے آئسکریم باکس میں آئسکریم نہیں بلکہ منجمد سبزیاں ملتی ہیں-
6۔اسی طرح ان کے پاس موجود کوکیز یا بسکٹ کے ڈبے میں سلائی کڑھائی کے آلات آپ کوضرور دکھائی دیتے ہیں-
7۔خالص پاکستانی ہونے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ پاکستانی والدین اپنے بچوں کے کپڑے ان کے سائز سے کچھ زیادہ بڑے خریدتے ہیں کہ “ آخر بچوں کا سائز بھی تو بڑھ رہا ہے“-اگلے سال بھی کام آئیں گے۔
8۔پاکستانی ایک پلاسٹک بیگ میں متعدد پلاسٹک بیگز سنبھال کر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ ایک پلاسٹک بھی الماری کی کسی دراز میں محفوظ ہوتا ہے-
9۔دیسی پاکستانی اپنے مقام پر دیر سے پہنچتے ہیں اور رویہ ایسا ہوتا ہے کہ جیسے سب نارمل ہے۔
10۔پاکستانی ہر طرح کے چٹ پٹے اور مرچ مصالحوں سے بھرپور کھانا کھانے میں بہت ہی ماہر ہوتے ہیں-
11۔دیسی پاکستانیوں کی ایک واضح نشانی٬ جب آپ بیمار پڑ جائیں تو ہر کوئی حکیم بن جاتا ہے اور ہر کوئی آپ کو گھریلو ٹوٹکے بتانا شروع کردیتا ہے-
12۔ریموٹ کنٹرول کو متعدد بار پٹخ کر چلا لیں گے لیکن اس کی مردہ بیٹری کو تبدیل نہیں کریں گے۔ جب تک کہ وہ بالکل جواب نہ دے دے۔
13۔یہ کپڑے کا پیچھا آسانی سے نہیں چھوڑتے٬ پہلے شرٹ بڑا بھائی پہنتا ہے پھر چھوٹا- یہاں تک کہ آخر پر وہ شرٹ صفائی کرنے کے کام آتی ہے-
14۔پاکستانیوں کے چہرے کے تاثرات اس وقت اچانک بدل جاتے ہیں جب ان کے گھر میں کوئی مہمان جوتوں سمیت قالین والے کمرے میں داخل ہوجائے-
15۔یہ صابن کا استعمال اس وقت تک کرتے ہیں جب تک کہ وہ نظر آنا بند نہیں ہوجاتا-یا جب صابن چھوٹا رہ جاتا ہے تو اس کو نئے صابن کے ساتھ چپکا کر اس کا استعمال ترک نہیں کرتے ۔
16۔همارے ملک میں ٹوتھ برش سے پهلے دانتوں کی صفائی کی جاتی هے،پهربالوں کوکلرلگانےکےکام آتا هے،پهرمشین،پنکهے،پرذه جات وغیره صاف کرنےکےکام آتاهے،
اوراتناهی نهیں.
جب اسکےسارے بال اڑجاتےهیں.تواس میں چهیدکرکےایک ڈوری پروکرشلوارمیں ناڑه ڈالنےکیلئےاستعمال کیاجاتاهے...


comments | | Read More...

Blogger news

Categories

About

Blogroll

 
Design Template by panjz-online | Support by creating website | Powered by Blogger